66.29.132.4 United States

11-Oct-2021

Learn how to walk on your own soil

by admin

اپنی مٹی پہ چلنے کا سلیقہ سیکھو۔۔۔۔

(کالم نگار فراز قریشی)

کہتے ہیں کہ ہندوستان کےپانچ سو شہر اجڑے تھے تو سمندر کے کنارے موجود مچھیروں کی بستی ایک بین الاقوامی شہر  میں تبدیل ہوئی تھی۔پاکستان کا شہر کراچی اردوزبان بولنے والوں کامرکزسمجھاجاتاہے۔۔۔یہاں بسنے والے افراد کی بڑی تعداد انیس سو سینتالیس کے بعد انڈیا سے ہجرت کر کے جب وطن عزیزمیں آئی تو ان کا مسکن کراچی بنا۔۔۔۔اس شہر نے اردو ادب میں عظیم دانشوروں،شاعروں اورقلمکاروں کوجنم دیا۔۔۔یا ان میں سے بیشتر افراد شہر قائد میں آکربسے جن میں صہبا اختر،جمال احسانی،حمایت علی شاعر،جون ایلیا،رئیس امروہوی،پیرذادہ قاسم، شان الحق حقی،صبا اکبر آبادی،ودیگر قابل ذکرہیں جبکہ متعدد ایسے نام بھی اس شہرمیں موجودہیں جنھیں دنیابھرمیں مقبولیت حاصل ہوئی۔۔۔اس شہر کاالمیہ ناجانے کیوں ہمیشہ سے یہ رہاکہ یہاں کے لکھنے والے ہوں یاگائیکی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد ہوں انھیں اپنے ہی شہرمیں گم نامی کاسامنارہا۔۔۔۔جس کی منہ بولتی مثال ساکنان شہرقائد کاعالمی مشاعرہ ہو یااردو کانفرنس،کے ایل ایف کا میلہ ہو یا کسی سیاسی جماعت کامشاعرہ کراچی سے تعلق رکھنے والے شعرا اورادیب آپ کو کم ہی دکھائی دیں گے حال ہی میں ایم کیوایم کے مشاعرے کی مثال لے لیں،اس مشاعرے میں بھی یہ ہی حال تھا یوں محسوس ہوا کہ کراچی میں کوئی اچھالکھنےوالا شاعر ہی ناہو پسند اور نا پسند کی بنیاد پر لوگوں کامجمع اکھٹا کرنے کانا رکنے والا یہ سلسلہ کئی اہم لکھنے والوں کو گوشہ نشینی کی راہ دکھا چکاہے تاہم کوئی اس پر بات کرنے کوتیارنہیں۔۔۔ایم کیوایم ملک کی وہ جماعت ہے جس کی مکمل سیاست شہرقائد سے منسوب ہے لیکن افسوس یہ جماعت کراچی ہی کے ساتھ استحصال کرتی نظر آئی ہے اس کی سیاسی منافقت کی کئی مثالیں موجودہیں۔۔۔شہر قائد کے قلمکاروں نے اس تمام صورت حال سے تنگ آکر اب محافل میں جاناترک کردیالیکن یہ عوامی مسائل حل کرنے کے دعویدار اس بات کوسمجنھے سے قاصرہیں کہ اس جماعت کی بنیادمیں بھی رئیس امروہوی ایسے قدآور قلمکاروں کی شفقت اور محسن بھوپالی ایسے افراد کی مشاورت شامل رہی تب جاکے یہ چند مٹھی بھر لونڈوں کی بات میں وزن آیاتھا۔میں یہ بات بھی سمجھنے سے قاصر ہوں کہ وہ جماعت جو اپنی انتخابی مہم میں “اپنوں کا ووٹ اپنوں کے لیے” کا نعرہ لگاتی ہے وہ اپنی ہی کسی ادبی محفل میں “اپنے”ہی قلمکاروں کو کس طرح بھول جاتی ہے۔۔ بطور ایک قلم کار میرے لیے کسی تخلیق کار کی زبان اور علاقہ ثانوی چیز ہے۔۔۔ایک اچھا لکھنے والا سب کے لیے سانجھا ہوتا ہے لیکن جو بات مجھے پریشان کررہی ہے وہ یہ ہے کہ اردو بولنے والوں کی نمائندہ جماعت ہونے کی دعویدار ایم کیو ایم پاکستان اپنے ہی شہر کے قلم کاروںکو نظر انداز کررہی ہے۔۔۔اپنے نوجوان قلمکاروں کو آپ دنیا کے سامنےمتعارف نہیں کرائیں گے تو کون کرائے گا ؟ ایم کیو ایم کے زیراہتمام منعقدہ حالیہ مشاعرے میں اسٹیج پر  موجود تمام شعرا کرام میرے لیے محترم تھے لیکن کوئی لاہور کی نمائندگی کررہا تھا کوئی تو کوئی فیصل آباد کی کوئی تونسہ سے تھا تو کوئی بہاولپور سے۔۔۔۔اور مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ میرے شہر کی زمین بنجر ہوگئی ہے یا دانستہ بنادی گئی ہے۔۔۔ جون ایلیا جمال احسانی اور سلیم احمد کے شہر سے جب آپ کو مشاعرے کی صدارت کے لیے بھی کوئی شخصیت نہ مل سکے تو سمجھ لیں کہ بات بہت دور تک نکل گئی ہے۔۔بات تلخ بہت ہے لیکن کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اس طرح کے “سلیکٹڈ”مشاعروں سے آپ اپنی تھوڑی بہت بچی ہوئی ساکھ بھی کھودیں گے۔۔۔۔ آپ کوے ہیں تو کوے ہی بنے رہیں۔۔۔۔ہنس کی چال چلیں گے تو اپنی چال بھی بھول جائیں گے۔۔۔۔۔بات ختم ہی کرنےوالا تھا کہ ایسا لگا کہ میرے شہر کے مرحوم شاعر اقبال عظیم  نے مجھے صدا دی ہے میں نے توجہ سے سنا تو اقبال بھائی نے کہا کہ “اپنوں” کو سلام کہنا اور کہنا کہ اقبال عظیم  نے یہ مصرعہ رابطہ کمیٹی کو ہدیہ کیا ہے۔۔۔۔اپنی مٹی پہ چلنے کا سلیقہ سیکھو۔۔سنگ مرمر پر چلو گے تو پھسل جاٶ گے۔۔۔۔۔

Related Posts

Leave a Comment

Translate »