66.29.132.4 United States

12-Oct-2021

Hamary gharo say janaza uthany wala koi mard nhi(hazara baradri)

by admin



رپورٹ۔کارنامہ نیوز بیرو چیف سندھ حاکم علی دل
کراچی پریس کلب پے ہزارہ براداری
ہمارے گھر میں جنازہ اٹھانے والا کوئی مرد نہیں بچا
بلوچستان میں ہزارہ مزدوروں کا قتل: ’میرا اکلوتا بھائی چھ بہنوں، اپنی اہلیہ، دو بیٹیوں اور بوڑھے والد کا واحد کفیل تھا‘
اگر کسی کو کربلا کا منظر دیکھنا ہے تو وہ میرے خاندان کو دیکھ لے۔ ہمارے خاندان میں جنازہ اٹھانے والا کوئی مرد نہیں بچا۔ جس کے بعد ہم چھ بہنوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اپنے بھائی اور اپنے رشتہ داروں کے جنازے خود اٹھائیں گے۔‘
یہ کہنا ہے ہے معصومہ یعقوب علی کا جن کا اکلوتا بھائی محمد صادق اور 10 دیگر رشتہ دار ہفتے کی شب صوبہ بلوچستان کے ضلع مچھ میں مبینہ طور پر شدت پسند تنظیم نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں ذبح ہونے والے دس کان کنوں میں شامل ہیں۔معصومہ کا بھائی چھ بہنوں کے اکلوتے بھائی اور دو بچوں کے والد تھے۔ جبکہ ان کے دیگر ذبح ہونے والے رشتہ داروں میں اٹھارہ سالہ بھانجا احمد شاہ، دو ماموں 20 سالہ شیر محمد اور 30 سالہ محمد انوار اور ان کی خالہ کا بیٹا محمد احسن شامل ہیں
معصومہ تھرڈ ایئر کی طالبہ ہیں۔ ’میں ریاست مدینہ سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ یہ کیسی ریاست مدینہ ہے جس میں دن دہاڑے بے گناہ خاندانوں کے سہاروں کو اس بے دردی سے قتل کر دیا گیا ہے اور اس کے بعد صرف میڈیا پر تعزیتی بیانات کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہو رہا ہے۔‘
’میں کہتی ہوں کہ اگر یہ واقعی انصاف کی ریاست ہے۔۔۔ اگر یہ واقعی مسلمانوں کی ریاست ہے۔۔۔ اگر یہ واقعی ریاست مدینہ ہے تو ہمارے مجرموں کو فی الفور قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ انھیں سامنے لایا جائے۔ آخر ہم کب تک اپنے لوگوں کی لاشیں اٹھاتے رہیں گے۔‘
معصومہ نے اپنے بھائی محمد صادق کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’میرے والد ضعیف ہیں۔ میرا بھائی ہم چھ بہنوں، بوڑھے والد، اپنی اہلیہ اور اپنی دو بیٹیوں کا واحد کفیل تھا۔ وہ تو محنت مزدوری اور رزق حلال کمانے کے لیے اپنے شہر سے میلوں دور گیا تھا۔‘
میرے بھائی، میرے رشتہ داروں اور سارے مارے جانے والوں کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان لوگوں کو تو سرنگوں میں مزدوریاں کرتے ہوئے یہ بھی پتا نہیں چلتا تھا کہ دن ہے کہ رات۔ کئی مرتبہ اس طرح ہوا ہے کہ بھائی مزدوری کرنے کے بعد فارغ ہو کر فون کرتے تو کہتے کہ مغرب کا وقت ہوا ہے۔ مغرب کی نماز پڑھ لوں، تو اصل میں اس وقت رات کا کافی حصہ بھی گزر چکا ہوتا ہے۔’
‘میری بڑی بہنیں اکثر اپنے بھائی سے کہتیں کہ ہم نے کافی پڑھ لیا ہے اب ہمین اجازت دو کہ ہم بھی کام کریں، تو وہ کہتا کہ نہیں ابھی تم لوگ اچھے سے پڑھائی کرو تاکہ تم لوگوں کا مستقبل محفوظ ہو۔ بہنیں اس سے کہتیں کہ تم اس مزدوری سے آخر کتنا کام کر سکتے ہو تو وہ کہتا کہ میرے بازوں میں بہت دم ہے۔ میں اتنا کام کروں گا جتنی ہمیں ضرورت ہے۔’
معصومہ یعقوب علی کا کہنا تھا کہ ان کا بھائی مزدور تھا، کان کن تھا مگر وہ اتنی محنت کرتا تھا کہ ہماری تعلیم سمیت تمام ضرورتیں پوری ہوتیں تھیں، ہمارے بھائی اور والد کا کوئی بینک اکاوئنٹ نہیں ہے مگر ہمارے تمام مسائل حل ہوتے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ اسی طرح میرے خالہ زاد، ماموں زاد، میرا کم عمر بھانجا یہ سب اپنے خاندانوں کے کئی افراد کے لیے امیدیں اور سہارا تھے۔ ان کے قتل ہونے سے کئی گھروں کے چراغ اور کئی گھروں کے چولہے بجھ چکے ہیں۔

Related Posts

Leave a Comment

Translate »