66.29.132.4 United States

11-Oct-2021

ڈالر کی رفتار

by admin

ڈالر کی رفتار
(کالم نگار وصی احمد)
دو دن میں ڈالر کی قیمت 2 روپے گر گئی۔ سلیم غاپی اور جاوید چول جیسے “معاشی ماہرین” کل تک کہہ رہے تھے کہ 1 روپیہ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے پاکستان پر 115 ارب روپے قرضہ بڑھ جاتا ہے آج نہیں بتا رہے کہ 2 روپے گرنے سے دو دن میں پاکستان سے 230 ارب روپے قرضہ کم ہوگیا۔ بلکہ اسی فارمولے کے تحت 9 ماہ میں ڈالر کی قیمت ریکارڈ 16 روپے گرنے سے تقریباً 1800 ارب روپے بیرونی قرضہ کم ہوا۔
(اگر یہ فارمولہ درست ہے تو)
ڈالر کی قیمت گرنے کی وجہ عمران خان کی بہتر معاشی پالیسیاں ہیں۔ معاشی ماہرین کے مطابق روپے کی قدر مستحکم ہونے کا یہ سلسلہ اگلے دو سال تک جاری رہے گا۔ ان شاءاللہ
ویسے کیا آپ جانتے ہیں کہ ۔۔۔۔
کہ تمام آمرانہ ادوار میں مجموعی طور پر ڈالر کی قیمت 16 روپے بڑھی اور تمام جمہوری ادوار میں مجموعی طور پر 134 روپے بڑھی۔
فوجی حکومتیں 33 سال میں 16 روپے
پیپلز پارٹی 16 سال میں 65 روپے
ن لیگ 11 سال میں 39 روپے
اور پی ٹی آئی 3 سال میں 30 روپے (لیکن اب بتدریج کمی کا رجحان)
مختصر سی تفصیل حسب ذیل ہے۔
قیام پاکستان کے وقت 1 ڈالر 3 روپے 31 پیسے کا تھا۔ یہ بات صحیح نہیں کہ 1 روپیہ 1 ڈالر کے برابر تھا۔
ایوب خان کو ڈالر 4 روپے 78 پیسے کا ملا اور دس سال بعد جب وہ چھوڑ کر جارہا تھا تب بھی ڈالر 4 روپے 78 پیسے کا ہی تھا۔ یحیی خان کے تین سال میں جب سرخوں (بھٹو اور مجیب) کی سازش کے نتیجے میں پاکستان پر دوسری جنگ مسلط ہوئی تب بھی روپیہ کی قیمت محض 22 پیسے گری اور ڈالر 5 روپے کا ہوا۔ بھٹو کی شکل میں جمہوریت آئی اور پہلی بار ڈالر کو پر لگے۔ بھٹو کو 5 کا ملا اور جب جنرل ضیاء کا مارشل لاء لگا تو ڈالر کی قیمت 9 روپے 90 پیسے تھی۔ حالانکہ بھٹو کو سعودی عرب اور لیبیا سے بھاری گرانٹ ملی تھی۔
جنرل ضیاء کے دور میں بھی روپے کی قدر بتدریج کم ہوتی رہی اور 11 سال میں 7 روپے ڈالر مہنگا ہوا۔ جب جنرل ضیاء کو شہید کیا گیا تب ڈالر 17 روپے کا تھا۔ بےنظیر کے پہلے دور میں 18 ماہ میں ڈالر 5 روپے مہنگا ہوا اور 22 روپے کا ہوگیا۔
نواز شریف کے پہلے دور میں 1993ء میں ڈالر 8 روپے بڑھ کر 30 کا ہوگیا۔
بےنظیر بھٹو کی دوسری باری میں یہ بےقدری جاری رہی اور 1996ء میں جب اس کی دوسری حکومت ختم ہوئی تو ڈالر 30 روپے سے بڑھ کر 42 روپے کا ہوگیا۔
نواز شریف کی دوسری باری میں تین سال میں 42 سے بڑھ کر 54 روپے کا ہوا۔
پھر پاکستان پہ دوبارہ مارشل لاء لگا۔ جنرل پرویز مشرف کے 8 سال میں ڈالر 54 سے 61 روپے پہ پہنچا یعنی کل 7 روپے مہنگا ہوا۔
زرادری کے 5 سال میں ڈالر نے صحیح پرواز کی اور سنچری مار کر 104 پہ پہنچا۔ یعنی پورے 43 روپے مہنگا ہوا۔
نواز شریف نے پانچ سال میں پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ قرضہ لیا اور روپے کی قدر مصنوعی طریقوں سے کم رکھنے کی کوشش کی۔ اس کے باؤجود 123تک پہنچا۔
عمران خان نے 18 اگست 2018ء کو وزارت عظمی سنبھالی تو ڈالر 124 روپے کا تھا۔ اسحاق ڈار کے روپے میں بھرے گئے غبارے سے ہوا نکلی اور کرونا کی تباہی آئی تو 20 اگست 2020 کو ڈالر پاکستان کی تاریخ کی بلند ترین سطح 169 روپے پر پہنچ چکا تھا۔
اس کے بعد پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ڈالر کی قیمت مستحکم ہونا شروع ہوئی اور تاریخ میں پہلی بار مسلسل 9 ماہ تک ڈالر کی قیمت مسلسل گرتے گرتے 16 روپے کم ہوئی اور آج 153 روپے پر آگیا ہے۔

Related Posts

Leave a Comment

Translate »