66.29.132.4 United States

11-Oct-2021

ضمیر کی آواز

by admin

تحریر وتجزیہ
لیاقت حکیم

ضمیر کی آواز

ہر ایک نے اپنی اپنی عدالت لگا کر ایک عورت کی عزت کو اچھالا کیا عرش والا یہ سب کچھ نہیں دیکھ رہا اگر اس نے عدالت لگا لی تو پھر تمام تدبیریں ناکام ہو جائیں گی

کیا کسی بھی لکھنے والے کے پاس یہ ثبوت ہے کے پولیس افسران اسکی زلفوں کے اسیر تھے اعلی پولیس افسران پر الزامات لگا کر پولیس کو بلیک میل کیا گیا اسکی تحقیقات ہونی چائیے

اگر کسی کے پاس کوئی پروف ہے تو وہ سامنے لائے اعلی پولیس افسران کو اس بات کا نوٹس لیکر انکوائری کرانی چائیے کے گیم یا کھیل کا اصل مہرہ کون ہے

جس نے غلطی کی اسکی اسکو سزا مل گئی مگر بات جہاں عزت کی ہو وہاں کس کے پاس پروف ہیں جو الفاظ اعلی پولیس افسران کیلئے ادا کیے گئے کیا وہ درست ہیں

کوئی بھی قانون پسند شہری غیر قانونی کام کی حمایت نہیں کر سکتا مگر اس معاملے کو جس طرح بار بار اچھالا جا رہا ہے کیا یہ کسی کی ذاتی فرمائش تو نہیں

ایک عورت کو حصہ مانگنے پر دہشت گردی ایکٹ کے تحت ایف آئی آر اور جو لے رہیں وہ مدعی کیا تحقیقات کرکے ایف آئی آر درج کی گئی

پھر بار بار کے اعلی پولیس افسران کے اسکے ساتھ کس نوعیت کے تعلقات تھے یہ لکھنا ضروری تھا اعلی پولیس افسران کی کردار کشی کے پیچھے کون کون تھا تحقیقات ہونی چائیے

صحافت کا شیرازہ بکھیرنے کے ساتھ ساتھ پولیس کے اعلی افسران کی کردار کشی کا نوٹس لینا چائیے کیا کسی بھی شخص کے پاس کوئی پروف ہے

اس خبر کو بار بار نیوز گروپوں کی زینت بنانے کا کیا مقصد تھا صحافت کو بدنام کرنا یا ذاتی روح کی تسکین

کسی کی بہن بیٹی کو کسی کے ساتھ اس طرح جوڑنا کیا ہمارا مذہب اسکی اجازت دیتا ہے

جس طرح ثانیہ شاہ رخ کا بار بار تماشہ بنایا گیا اس سے صحافت کے ساتھ پولیس کے اعلی افسران کی بھی کردار کشی کی گئی جنہوں نے لکھا یا شئیر کیا کیا انکے پاس کوئی ثبوت ہیں کے وہ پولیس آفیسر اسکے زلفوں کے اسیر تھے کتنی بڑی شرم کی بات ہیکہ ایک عورت کی عزت کا اس طرح جنازہ نکالا گیا

جس پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج ہوئی وہاں کیا کسی بھی طرح کی کوئی کرپشن بیٹ یا بھتہ نہیں اس بات کی کیا گارنٹی ہے

پولیس کے اعلی افسران تک اسکی رسائی کوئی بری بات نہیں ہر صحافی کسی بھی وقت کسی بھی پولیس افسر سے مل سکتا ہے ایف آئی آر کٹنے کے بعد ہی صحافی جعلی کیوں ہو جاتے ہیں اس کی وجہ

کراچی بھر کے تھانوں میں جو ہو رہا ہے ایک ریڑھی والے سے لیکر شراب کے اڈوں شاپ تک سب کو معلوم ہے کے بھتہ کون کون لیتا ہے سب کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیوں نہیں ہوتے۔

جب بھی کوئی صحافی پکڑا جاتا ہے تو وہ جعلی ہو کر اسکو رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس میں ہمارے اپنوں کا ہی بڑا کردار ہوتا ہے جس دن صحافی ایک ہوگئے اور ہمیں اس ملک کے چوتھے ستون ہونے کے ناطے اپنا فرض نبھانا شروع کر دیا تو کوئی مائی کا لال ہماری طرف انگلی نہیں اٹھا سکتا

اگر کوئی بھی قانون نافذ کرنا والا ادارہ خود ٹھیک ہو جائے تو کسی کی جرات ہی نہیں کے وہ کسی کو بلیک میل کر سکے برائیاں کی جڑیں کچھ کرپٹ سرکاری کالی بھیڑیں ہیں

اللہ کو حاظر وناظر جان کر اگر سب سچائی بیان کریں تو بندہ کسی پر انگلی اٹھانے کی بجائے اپنی اصلاح میں لگ جائے

جس طرح بار بار ایک عورت کی عزت اچھالی گئی یہ کہاں کا انصاف ہے جب اس پر ایف آئی آر درج ہو۔گئی تو پھر اسکی عزت کو تارتار کرنا کوئی اچھا کام نہیں

وہ بھی کسی کی بہن کسی کی بیٹی کسی کی بہو کسی کی شریک حیات ہوگی اس خاندان پر کیا گزرتی ہوگی جب ہم غیر مناسب الفاظوں کے تیر چلاتے ہونگے

کون کیا کر رہا ہے پولیس کہاں کہاں سے مال کما رہی ہے کس تھانے کی کتنی بیٹ یا بھتہ ہے سب کو معلوم ہے مگر جس طرح اس عورت ہر ایک نے اپنی مرضی کی عدالت لگا کر سزا سنائی کہیں عرش کا ملک اپنی عدالت سے کوئی فیصلہ نہ جاری کر دے جس کا جواب پھر کسی کے پاس نہ ہوگا اگر کسی کے پاس کوئی ٹھوس شواہد ہیں کے اعلی پولیس افسران کے تو وہ پیش کرے ورنہ یہ پولیس بھی ہماری ہے اسکی بھی بہت قربانیاں ہیں سب برے تو نہیں ہیں .

Related Posts

Leave a Comment

Translate »