66.29.132.4 United States

11-Oct-2021

تقوی کے اثرات اور برکات

by admin

تقوی کے اثرات اور برکات تحریر ملک ممتاز خان برکی۔ تقوی کے معنی بچنے اور ڈرنے کے ہیں کفر و شرک سے بچنا اور ایمان قبول کرکے چھوٹے بڑے گناھوں سے بچنا اور عبادت میں مشغول رہنا یہ سب عبادت میں آتا ھے ۔۔ بعض بزرگوں نے کہاں ھے تقوی کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچنا اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرکے اور نافرمانیوں سے بچنا تقوی کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کی ھر قسم نافرمانی اور تمام صغیرہ و کبیرہ گناہ سے مکمل پرہیز کرنا ۔۔ جو لوگ متقی ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق چلتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ کہ اگر ھم نے کوئی بھی غلط کام کیا اور اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں سزا ملیں گے اور ھم جھنم میں ڈالیں جائیں گے اور اگر اللہ سے ڈرتے رھے اور اللہ کا حکم مانتے رھے تو جنت ملے گی ۔۔۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اور اللہ سے ڈرتے رھو اور اچھی طری سمجھ لو کہ اللہ انھی کا ساتھی ھے جو اس کا خوف دل میں رکھتے ھیں ۔ایک اور جگہ ارشاد ھے درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ھے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ھوں ۔۔ قرآن مجید میں بڑی تاکید کے ساتھ اور بار بار تقوی کی تعلیم دی گئی ہے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اور اللہ سے ڈرتے رھو اور اچھی طرح سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ انہی کا ساتھی ھے جو اس کا خوف دل میں رکھتے ھیں سورت آل عمران میں آللہ تعالیٰ کے ارشاد کا مفہوم ھے اے ایمان والو اللہ تعالیٰ سے ڈرو جیسا کہ ان سے ڈرنے کا حق ھے اور آخری دم تک اس تقوی کے تحت اس کی فرمانبرداری کرتے رھو یہاں تک کہ اس فرمان برداری کی حالت میں موت آجائے سورت تغابن میں ارشاد فرمایا اللہ سے ڈرو اور تقوی اختیار کرو۔ سورت حشر میں فرمایا گیا ھے اے ایمان والو اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور تقوی اختیار کرو۔ میرے عزیز دوستوں قرآن شریف ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈریں اور تقوی اور پرہیز گاری کے ساتھ زندکی گزاریں ان پر دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کا خاص فضل وکرم ھوتا ھے اور اللہ تعالیٰ ان کی بڑی مدد کرتا ھے اسی طرح سردار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے نے فرمایا ھے مجھ سے زیادہ قریب اور مجھے زیادہ پیارے وہ لوگ ہیں جن میں تقوی کی صفت ھے خواہ وہ کسی قوم ونسل سے ھو اور کسی بھی ملک میں رہتے ہو حضرت عمر فاروق رضی آللہ عنہ کی ایک صحابی کو نصیحت۔ ۔حضرت عمر بن خطاب رضی آللہ عنہ نے ایک صحابی حضرت سعد بن ابی وقاص رضی آللہ عنہ کو نصیحت فرمائی علیک بتقوی اللہ ۔ترجمہ آپ تقوی کو لازم پکڑیں تقوی کی برکات ۔جو شخص بھی متقی ھوتا ھے اللہ ربّ العزت کی طرف سے اسے بہت برکات ملتی ہےبزرگ فرماتے ہیں جو چاہے کہ اس کے لیے آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھل جائیں ۔۔ اور مصیبت میں سے نکلنے کا راستہ بنادے اور اللہ تعالیٰ ایسی طرف سے رزق دے جہاں سے بندے کا گمان بھی نہ ھو اور اللہ اس کے گناھوں کو معاف کریں اور اس کے اجر کو زیادہ کریں اور اس کے کاموں میں آسانیاں کردے اور اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ھو جائے اور اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرے اور ھر مصیبت سے نجات عطاء فرمائے اور جو کامیابی حاصل کرنے والوں میں بن جائے اس کو چائیے۔ فلیتق اللہ اس کو چاہیے کہ وہ تقوی اختیار کرے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ھے کہ میں تم کو وصیت کرتا ھوں تقوی کی کونکہ یہ تقوی بہت ذیادہ آراستہ کرنے والا اور سنوارنے والا ھے تمھارے سارے کاموں کا ہمیں چاہیے کہ ہمیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے وصیت پر عمل کریں اللہ تعالیٰ ھم سب کو متقین میں سے بنائے آمین

Related Posts

Leave a Comment

Translate »