66.29.132.4 United States

11-Oct-2021

اپنی شناخت بنائیں

by admin

اپنی شناخت بنائیں
کالم نگار فراز قریشی
بڑا کام کرنے کیلئے دو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ یا تو آپ سب چیزوں سے آزاد ہو جائیں یا پھر اتنا کچھ حاصل کرلیں کہ پروا ہی ختم ہوجائے۔ امیر تیمور دنیا کا وہ بادشاہ تھا جس نے کھوپڑیوں کے مینار بنانے کا آغاز کیا۔ یہ اس کی فتح کا نشان تھا۔ وہ جس علاقے کو فتح کرتا، اس علاقے کے جتنے بھی قابل لوگ ہوتے تھے، وہ اُن کے سر اتروا دیتا تھا۔ پھر وہ سر سارے اکٹھے کرکے مینار بناتا۔ پھر اس پر جسموں کی چربی ڈال دیتا تھا۔ اس کے بعد آگ لگا دیتا اور وہ آگ کئی کئی مہینے جلتی رہتی۔ جب وہ شیراز پہنچا تو اس نے اعلان کیا کہ پورے شہر کو امان دے دو۔ اس کے جرنیل نے کہا کہ بادشاہ سلامت آپ تو کسی کو نہیں چھوڑتے، یہ کیا ہوا؟ اس نے جواب دیا، یہاں میرا استاد دفن ہے۔ جرنیل نے کہا، آپ تو یہاں کبھی آئے ہی نہیں ہیں، آپ کو کیسے پتا کہ یہاں پر آپ کا استاد دفن ہے؟ تیمور نے جواب دیا، یہاں حضرت شیخ سعدیؒ دفن ہیں۔ جرنیل نے کہا، آپ تو کبھی ان سے ملے ہی نہیں ہیں۔ انھیں تو دنیا سے گئے عرصہ ہوچلا ہے۔ امیر تیمور نے جواب دیا، میں نے ان کی کتا بیں ’’بوستان‘‘ اور ’’گلستان‘‘ پڑھی ہیں۔ میں نے ان کتابوں میں ایک جملہ پڑھا تھا اور اس ایک جملے نے مجھے ایک سپاہی سے اتنا بڑا بادشاہ بنایا ہے۔ اور وہ جملہ یہ تھا کہ ’’زندگی میں علم اور پیسہ خوب حاصل کرو، کیونکہ میں نے بڑے پیسے والوں کو بھی رلتے دیکھا ہے اور بڑے علم والوں کو بھی پیسے والوں کا محتاج دیکھا ہے۔‘‘
جب یہ دو محتاجیاں ختم ہو جاتی ہیں تو پھر دماغ سوچنا شروع کر تا ہے۔ جب تک زندگی کی تلخیاں آپ کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں، تب تک آپ بڑا سوچ نہیں سکتے۔ اس کیلئے صرف ایک چیز ضروری ہے کہ سوچ کے تالوں کو کھولا جائے۔ پرانے زمانے میں تعلیم اور تربیت کبھی ایک کام ہوا کر تی تھی۔ استاد پڑھاتا بھی تھا اور ساتھ ہی تربیت بھی دیتا تھا۔ جب سے ڈگری کلچر آیا ہے، اس نے ایک نئی فوج تیا رکر دی ہے جو صرف سلائیڈوں کا سہارالیتی ہے۔ اس نے تربیت ختم کر دی ہے۔ جو کردار قوم کو چاہیے، وہ کردار اگر استاد کا نہیں ہے تو پھر وہ کردار طالب علم کا نہیں بن سکتا۔ یہاں خوف ختم کرنے والے استاد، سوچ کو بڑا کرنے والے استاد نہیں ملتے۔ فزکس، کیمسٹری اور میتھ کے ماہر بہت زیادہ ملیں گے۔ امتحان ٹاپ کرنے کا قطعی مطلب یہ نہیں ہے کہ پیپروں میں تو نمبر خوب ہوں، مگر زندگی میں نمبر ہی نہ ہوں۔ آج سائنس ای کیو (EQ= Emotional Quotient) پر چلی گئی ہے اور ہم ’’آئی کیو‘‘ پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ہمار ا سارا سسٹم رٹے پر ہے۔ ہمار ے بچے میں پڑھنے کے بعد بھی صلاحیت پیدا نہیں ہوتی۔ نوے فیصد اسٹیج پر آکر با ت نہیں کرسکتے۔ وہ کلا س میں تو بڑے شرارتی ہوتے ہیں، لیکن جیسے ہی انٹرویو دینے آتے ہیں تو ان

Related Posts

Leave a Comment

Translate »